HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Google play app

Get it on Google Play
Showing posts with label Article. Show all posts
Showing posts with label Article. Show all posts

Thursday, 17 September 2020

Khawateen March Article by Anila Sadiq

 



خواتین مارچ۔۔۔


انیلا صادق



میراجسم میری مرضی "  ایسا سلوگن کیا اس معاشرے میں جہاں عورت حکومت کرتی ہے۔ایک ایسا اسلامی معاشرہ جس میں بیٹی کو رحمت ،ماں کو جنت ،بہن کو مان اور بیوی کو عزت کا مقام حاصل ہو وہاں کیا اس طرح کے نازیبا اور باز گشت سلو گنز اور الفاظ استعمال کر کے عورت پر ہونے والے تشدد اور زیادتیوں کی اس طرح مزاحمت کرکے کیا آج کی عورت کو وہ مقام دلا سکتا ہے جو بہت پہلے ایک عورت کو اسلام کی رو سے ملا یا میسر ہے ۔محترمہ ماروی سرمد صاحبہ عورت کو اس کے مقام سے نہ گرائیں خدارا!

ہم   سب تو جانتے ہیں عورت کا مقام ایک اسلامی معاشرے میں مگر میں عورتوں کے حقوق کے نام نہاد علمبردار منتظمین کو تاریخ کا وہ آئینہ دکھانا چاہتی ہو  خصوصا" ان ماروی سرمد صاحبہ کو۔یہ عورت کیا تھی ؟زندہ درگور کر دی جاتی تھی۔۔یہ غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی تھی۔یہ معاشرے پر بوجھ سمجھی جاتی تھی ۔مردہ شوہر کے ساتھ جلا دی جاتی تھی اور تو اور اسکو وراثت کا کوئی حق میسر نہ تھا۔اسلام کے ظہور کے بعد اسے وہ مقام ملا جس سے وہ خاندان بھر پر حکومت کرنے لگی۔بہن ،بیٹی، ماں اور بیوی کی صورت میں ۔۔۔۔

ہم جو نازیبا آور باز گشت سلو گنز سر عام روڈز پر آن کیمرہ بول کر اس اسلامی معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر نے والے یورپین سوسائٹی کی تہذیب و ثقافت کو اپنا کر اپنی حکمرانی سے بازیاب ہونے پر  تلی  ہوئی ہیں ۔وہ اسلامی معاشرہ جہاں اسلام کے نام پر کئی خاندان قربان ہوئے صرف اسلام کے نام پر وہ اسلامی ریاست جس نے عورت کو با پردہ رہ کر وہ معتبر مقام دلایا جو شاید آ ج کسی یورپین عورت کو یا ہم جیسی لبرل عورت کو حاصل ہو ۔۔۔خدارا! فاطمتہ الزہرہ  جس کی 'ط' میں طہارت میں سمٹی ہے یوں اپنی آزادی اور ناجائز حقوق کے لیے پامال نہ کریں ۔


معاشرے کے ان مٹھی بھر  وحشی مردوں کے لیے میرے معاشرے کے کے با عزت اور باوقار بھائیوں، شوہروں اور بیٹوں کو ان کے مقام سے نہ گرائیں جن کی وجہ سے ہم اس معاشرے میں بامحفوظ اور باوقار ہے۔یہ بے ہودہ الفاظ اور جملے جو بغیر سوچے سمجھے آن ائیر استعمال کر نا کہاں کی بہادری اور انسا نیت ہے ۔ایک مرد جس کی سپورٹ کے بغیر ہم خاک ہیں ۔ہم اس کی مانند ہے جس کی دیواریں تو ہو مگر ستون نہیں تو پھر کیوں میری بہنوں ۔۔۔۔

  How is it.........??

آپ کو یہ پتہ ہے کہ ریسرچ نے یہ ثابت کیا ہے کہ 90 فیصد مرد حضرات cheat نہیں کرتے ۔باقی جو دس فیصد ہیں اگر وہ cheat    کرتے ہیں تو اس کا بھی ریذن ہے۔۔۔۔۔

Because they have spouse cheat........

اب آپ سوچے گے کیسے ،کیوں اور اس میں کس قدر سچ ہے۔۔۔?       

                  !suppose

      ایک مرد جب وہ دس سال کا بچہ ہوتا ہے اس پر عمر سے پہلے ہی ماں، بہن یا بہنوں  کی ذمہ داری اور وقت گزرنے کے ساتھ ذمے داریوں کا کا بڑھنا مگر اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود وہ مقام وہ عزت اور اعتماد نہ ملنا جو وہ   deserve  کرتا ہے تو پھر کیا کرنا چاہیے اسکو جسکا تمام تر وقت اور سٹرگل ان رشتوں کے لیے ہوتی ہے جو اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ۔ہم یہ سب کرنے کے باوجود وہ مقام اور حکمرانی چاہتے ہیں جو شاید ہم جیسی عورتوں کے لیئے تو نہیں ہے۔کوئی بھی رشتہ کے لے لیں اسلامی معاشرہ کا۔میں صرف اپنی اسلامی ریاست کی بات کر رہی ہوں جس کی وجہ سے دنیا کی تمام عورتوں کو وہ مقام میسر ہے جو شاید کسی ریاست کے بس کا کام نہیں ۔کسی بھی اور ریاست کو لے لیں یورپین یا مغربی ریاست ہو عورت اب بھی بھکاو ہے ۔مگر ہمارے اسلامی معاشرے میں جس کا حضرت خدیجہ الکبری جو باعزت طریقے سے معاشرہ کے غلیظ مردوں کا با پردہ رہ کر مقابلہ کرتی تھیں ، میرے نبی کی زوجہ محترمہ جن کی پردگی اور عزت کی قسم سورج دیتا ہے،حضرت اسماء بنت ابو بکر کس بہادری سے معاشرے کے غلیظ مردوں کا با پردہ رہ کر مقابلہ کرتی تھیں   اور وہ بیٹی جسے فاطمتہ الزہرہ جنت کی ملکہ کا اعزاز حاصل ہے ہم اس معاشرے میں کا حصہ ہو کر اس طرح کے سلو گنز استعمال کر کے اپنے اس معاشرے میں عورت کے مقام کو پامال کر رہی ہیں ۔یہ مقام تو ہمیں شاید اب سے صدیوں پہلے میسر ہو گیا تھا۔ہر رشتے کے تسلسل کو برقرار رکھنا سیکھیں ۔۔۔۔  

Every relation of the world wants balance .....


Compromise krna sekho hr rishte mai...then see how is life straight and forward....?



یہ ہے اسلامی معاشرہ ۔یہ ہے اسلامی ریاست ۔اور جو مقام اسلامی معاشرے نے قرار دیا ہے عورت اور مرد کا انہیں اس رو سے دیکھو اس سے بڑھ کر نہ سوچو اور نہ ہی دیکھو۔۔۔


    میں بشر ہوں بشر الاسد نہیں  

     ماں، بہن، بیوی اور بیٹی ہوں 

    پانچواں میرا کوئی رشتہ نہیں 


Friday, 13 December 2019

But why by Sania Mughal pdf


But why by Sania Mughal


is an article by Sania Mughal.

Prime Urdu Novels promote new writers to write online

and  show their writing abilities and talant. We gives a platform

to new writers to write and show the power of  their words. 

Sania Mughal is an emerging new writer and its her new

article which is being written for us. This will surely

grab your attention.

But why by Sania Mughal download pdf

is available in pdf  and for online reading. 

Click the links below to download free

download pdf or free online reading. 

For better result click on the image.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



OR


OR



ONLINE READING

Friday, 19 April 2019

Sarapa sawal hai zaat meri article pdf by Qurrat Ul Ain

Sarapa sawal hai zaat meri article pdf by Qurrat Ul Ain

Sarapa sawal hai zaat meri article by Qurrat Ul Ain


Download free online Urdu books pdf, Free online reading

social Urdu article

Sarapa sawal hai zaat meri article pdf by Qurrat Ul Ain

complete in pdf.

Click the links below to download free

download pdf or free online reading this novel. 

For better result click on the image.

DOWNLOAD LINK (Mediafire)



ONLINE READING


Sarapa sawal hai zaat meri article online reading by Qurrat Ul Ain



CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING



Tuesday, 24 April 2018

Dastan e Neelum Article by Ahmi Khan

Dastan e Neelum Article by Ahmi Khan

"داستانِ نیلم"
"ایمی خان"
شہر طلسمیات شہر مظفرآباد میں بہتے دریاۓ نیلم کی کہانی نیلم کی ہی زبانی......
جب نیلم کنارے جاؤ تو اس کے پانی کی سرسراہٹ میں بہہ جانے والوں کی سسکیاں اور آہیں سنائی دیتی ہیں.نیلم کو خونی دریا کہا جاتا ہے یہ اپنی موجوں میں ناجانے کتنے لوگوں کے پیاروں کو بہا لے گیا بظاہر یہ چپ چاپ اپنی موج میں بہتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن غور کرو تو یہ کہانیاں سناتا ہوا محسوس ہوتا ہے......
یہ اپنے سینے میں بہت سوں کے دکھ،بہت سوں کے درد اور بہت سوں کے راز دفن کیے ہوۓ ہے.اس کی طرف دیکھو تو ایسے لگتا ایک طلسم سا ہے جو ہمیں اسکی طرف کھینچتا ہےہمیں اپنے پاس بولاتا ہے اور کہتا ہے جب تھک جاؤ تو میرے آنگن میں آکر بیٹھو اور اپنے سارے دکھ درد کے قصے مجھے سنا جاؤ،میں سب اپنے سینے میں دفن کر لوں گا میرے آنگن میں چلتی ٹھنڈی ہوائیں تمہارے دل و دماغ میں چلتی جنگ کو اپنے ساتھ اڑا لے جائیں گی اور میری اچھلتی لہریں جب تمہارے پاؤں سے ٹکرائیں گی تو ٹھنڈک کا احساس تمہارے دل و دماغ میں اتر جاۓ گا. .....
تمہارے اندر چلتی جنگ رک جاۓ گی اور تم گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ جاؤ گے اور صرف سکون ہی سکون محسوس کرو گےجب میرے پاس سے اٹھ کر جاؤ گے تو میری لہریں تمہارے قدموں سے لپٹ کر تمہیں روکیں گی تم بوجھل قدموں سے ریت اور پتھروں پر چلتے پلٹ کر مجھے دیکھو گے اور چل دو گے لیکن اس عہد کے ساتھ کہ تم پھر آؤ گےمیرے آنگن میں بیٹھنے،میری اور اپنی تنہائی بانٹنے..........
رات کو سارا شہر جب سناٹوں میں گر جاۓ اور تمہیں نیند نہ آۓتو چپکے سے ٹیرس پر جانا اور سننا،سناٹے میں میری موجیں تمہیں لوری سناتی محسوس ہوں گی تم دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے آنکھیں بند کر کے میری لہروں کی سرگوشیوں میں گاتی لوری کو سننا اور پھر جب تھک جاؤ تو جا کر سو جانا.........
میرے شہر میں جہاں جہاں جاؤ گے میں تمہارے ساتھ ساتھ جاؤں گا اور جہاں جہاں تک چلو گے میں تمہارے ساتھ چلوں گا میری رگ رگ میں وفا اور لہر لہر میں خلوص شامل ہے.مگر تم آدم زاد لوگ بہت بیوفا ہوتے ہو ،دوردراز سے جب آتے ہو میرے ساتھ خوب تصویریں بنواتے ہومیری آغوش میں موجود پتھروں پر کھڑے ہو کر ایسے بازو پھیلاتے ہو جیسے اپنے دامن میں مھجے سمیٹ کر لے جاؤ گے لیکن پھر جب جاتے ہو تو میری طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے........
اس شہر کے باسی یا تو بہت مصروف ہوتے ہیں یا بہت کم ظرف ان کے پاس میرے پاس آکر بیٹھنے کے لیے وقت نہیں ہوتا یا یہ لوگ مجھے دیکھ دیکھ کر عادی ہو گۓ ہوتے ہیں یا پھر اکتا گۓ .........
ہاں یونیورسٹی کی وجہ سے  دوردراز سے امیدوں اور امنگوں سے بھرپور چہرے لیے جب نوجوان طبقہ یہاں آتا ہے اور ہوسٹلز میں مقیم ہوتا ہے تو اسکی توجہ کا مرکز میں ہوتا ہوں........
وہ میرے پاس آتے ہیں کبھی اکیلے،کبھی کسی کے ساتھ،جب اکیلے ہوں تو مجھے اپنے غم سناتے ہیں اپنے راز بتلاتے ہیں اور جب ساتھ ہوں تو میرے آنگن میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ موج مستیاں کرتے ہیں ایک دوسرے کو قصے کہانیاں سناتے ہیں خوب شرارتیں کرتے ہیں میں چپکے سے انکی ساری باتیں سنتا ہوں انہیں خوش دیکھ کر خوش ہوتا ہوں.........
اور کچھ یہاں پیار کے باسی بھی آتے ہیں میری آغوش میں آکر خوب عہد و پیماں کرتے ہیں ان میں سے کچھ سچ میں پیار کرتے ہیں اور کچھ محض وقت گزاری........
جب میں ایسے کسی دھوکے باز کو دیکھتا جو لفظوں کو مجروح کر رہا ہوتا کسی معصوم دل کے ساتھ کھیل رہا ہوتا تو میرا دل کھول جاتا میں چیخ چیخ کر اس معصوم کو بتاتا سنبھل جا سنبھل جا.........
لیکن لفظوں کے جال میں پھنسے اس پیکر کو اس وقت صرف اپنے دھوکے باز محبوب کی باتیں سنائی دے رہی ہوتی،میں اسے بچانا چایتا اس جال میں پھنسنے سے لیکن میں کچھ نہیں کر پاتا..... آخر کو میری آواز وہی سن پاتے  نا جو احساسات رکھتے ہوں نا کہ ظاہری اور آلودہ جذبات.......
ہاں مگر کچھ سچے پریمی بھی آتے ہیں ان کے سچے عہدوپیماں، وعدے ،وفائیں دیکھ کر تو میرا بھی دل بھر آتا ہے میں دل سے انکے لیے دعا کرتا ہوں........
لیکن وہ ناداں نہیں سمجھتے کہ وہ الگ الگ دیس کے باسی ہیں آخر انھیں لوٹنا ہے اپنے اصل کی طرف،اور شاہد انکا اصل انہیں الگ کر دے انکی مجبوری بن جاۓ...لیکن وہ ناداں بھلا کہاں سمجھتے.  .....
اور پھر  ان کے بچھڑنے کا کرب بھی سہا ہے میرے اس دل نے،کچھ نے تو میری آغوش میں آکر اشک بھی بہاۓ اور مجھ سے سوال بھی کیے کہ تم تو گوا تھے نہ میرے پیار کے .....میری شدتوں کے.......تو پھر کیوں  وہ مجھ سے بچھڑ گیا.... .
میں کچھ نہیں بول پاتا نہ ہی کوئی تسلی دے پاتا......اور کچھ تو مجھ سے نظریں چراتے ،آنکھوں میں نمی لیے ہمیشہ کے لیے میرا شہر چھوڑ جاتےہیں........
ان چہروں میں کچھ ایسے  بھی ہوتے جو فطرت کے شیدائی ہوتے جن کے بڑے بڑے مقاصد ہوتے.......
وہ میرے کنارے، پرسکون گوشے میں یا تو مطالعہ کرنے آتے یا پھر خاموش بیٹھ کر مجھ پر نظریں دوڑاتے اور خدا کی قدرت کو داد دیتے اور اک سہیلی کی طرح میرے دکھ سنتے،محسوس کرتے اور مجھ میں دفن لوگوں کے دکھوں کو بھی محسوس کرتے.......
یہ لوگ مجھ سے باتیں کرتے میرے ساتھ اپنے مقاصد بیان کرتے مجھ بتاتے کے انھوں نے کتنا عظیم انسان بننا ہے کتنا آگے جانا ہے لوگوں کی کس طرح خدمت کرنی ہے......
ایسا نہیں ہوتا کہ ایسے لوگوں کی زندگی میں دکھ نھیں ہوتے،ہوتے ہیں لیکن یہ حوصلہ مند لوگ ہوتے،غموں کو پی کر مسکرانا سیکھ جاتے اور اپنی منزل کی جستجو میں بڑھتے جاتے.....
اور اگر کبھی کوئی اشک انکی آنکھوں سے بہنے کو بےتاب ہو تو چپکے سے بہا لیتے جسے میں آپنی آغوش میں چپکے سے چپھا لیتا.....
یہ لوگ کبھی اپنے گھر والوں کو یاد کرتے تو کبھی اپنے گزرے لمحوں کو اور پھر اپنی منزل کی تگ و دو میں لگ جاتے،جسکو حاصل کرنے وہ یہاں آۓ ہوتے.....
ایسے لوگ میرے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں اور میری ہر لہر انکے لیے دعاگو ہوتی......اور اک دن یہ لوگ بہت کامیاب بھی ہوتے.. ....
جب یہ لوگ مجھ سے بچھڑتے تو اداس چہرے، نم آنکھیں ،بھیگے رخسار لیے آخری بار میرے پاس آتے ،ریت پر اپنا نام لکھ کر خود کو زندہ رکھنا چاہتے لیکن میری لہریں انکا نام مٹا دیتیں.وہ مجھے یک ٹک دیکھتے جاتے اور خوب ساری باتیں کرتے جاتے اور پھر فراق کے لمحے آ پہنچتے ....
وہ بوجھل قدموں سے اٹھتے اور مجھ سے دور ہوتے جاتے....... دور جا کر اک آخری پرشکوہ نگاہ مجھ پر ڈالتے اور چلے جاتے ......میں بھی بہت مشکل سے ضبط کے مراحل سے گزرتا ہوا آخر رو پڑتا .....اور پھر نںۓ آنے والوں کا انتظار کرتا.... اور ایسا بلکل نہیں کہ پرانوں کو بھول جاتا بلکہ میں نںۓ چہروں میں پرانوں کو ڈھونڈتا..... کیونکہ اس روۓ زمیں پر آدم ذادوں کی بستیوں میں کہانیاں ہمیشہ اک سی رہتی ہیں ہاں بس کردار بدل جاتے ہیں ...
*******************
تحریر :      ایمی خان

Sunday, 22 April 2018

Hum sab ka urdu adab se adab Article by Bint e Mir

Hum sab ka urdu adab se adab Article by Bint e Mir

ہم سب کا  اردو ادب سے ادب
تحریر  بنت میر
عام طور پر دیکھا گیا ہے کے لوگ کامن لفظوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کے اردو جو "لشکری"زبان کا لفظ ہے یعنی ساری زبانوں کا حاصل اور ہم اسی کے استعمال سے گریز کرتے ہیں اس پر انگلش کو فوقیت دیتے ہیں اگر کوئی آپ سے اپنی قومی ادبی زبان سے بات کرے تو آپ کو وہ ان پڑھ لگتا ہے جب تک وہ انگلش کا کوئی لفظ استعمال نہ کرے 
ہم وہ لوگ ہیں جو اردو آداب سے تو کیا اردو لکھنے والوں اور اس کی ترویج دینے والوں سے بھی ناواقف ہیں 
ہم میں  کتنے ہیں جو عبدلحلیم  شرر کے لکھنوءی ادب سے واقف ہیں 
ہم میں سے کتنے پریم چند کے افسانوں سے واقف ہیں 
 ہم میں سے کتنے جو اشفاق احمد  اور بانو قدسی (qudsiya )کی تحریروں  سے  گزرے
ہم میں سے کتنے جو ممتاز مفتی اور مستنسر حسین تارڈ کے  سفر ناموں سے دنیا کو دیکھا 
اور اگر بات شاعری کی ہو تو نام تک سے واقف تو ہوں گے مگر آسان الفاظ کی شاعری پر  جو غالب اور فیض نے کبھی آج جیسے لوگوں کی آسانی کے لئے لکھ رکھی ہو گی اور اگر بات ساگر ؛؛ساحر ؛؛داغ ُُمیر تقی یا میر درد و آتش کی ہو تو ہم بلکل نابلد ہیں  اور اگر بات گرامر کی کیجیے تو ہم واحد کو جمع اور معروف کو مجہول بنا دیتے ہیں گو اب بات سے بات نکلی ہے تو ہم اس کا ساتھ دینے والوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو بچارے کبھی اردو کے شوق میں آ کر اردو تو سیکھ لیتے ہیں مگر اس کی ادائیگی پر قادر نہیں ہوتے یعنی ہوتا کچھ یوں کے ؛" لفظ تو ہوتے ہیں تلفظ نہیں ہوتا "اور ان کا شوق آپ اپنی موت مر جاتا ہے  غرض یہ کے اردو ادب کے ادب  سے ہماری شناسائی افسوس کے ساتھ کچھ بھی نہیں.
********************
بنت میر

Tuesday, 3 April 2018

Qaatal Article by Maryam Sheikh

Qaatal Article by Maryam Sheikh

"قاتل"از "مریم شیخ"

سارا کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔۔
کھڑی سے آنے والی باریک سی روشنی کی لہر کمرے میں موجود شخص کا ہیولاواضح کرنے کے لیے نا مکمل تھی ۔۔۔
روشنی نے زور لگا کر اس ہیولے تک پہنچنے کی کوشش کی ۔۔
جیسے ہی روشنی کی آنکھیں اس وجود کو دیکھنے کے قابل ہوئیں اس کے قدم ادھر ہی جم گئے ۔۔
روشنی نے دو بار سہ بار آنکھیں جھپک کر اس وجود کی طرف دیکھا ۔۔
مگر اس وجود کی آنکھوں میں اسے کوئی روشنی دکھائی نہ دی ۔۔
گھپ اندھیرا بالکل ویسے ہی جیسے کچھ دیر پہلے اس کے لیے تھا ۔۔
وہ وجود روشنی کو اچانک اپنے پاس دیکھ کر کانپ گیا ۔۔
روشنی نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا مگر اس نے بے دردی سے اسے پیچھے کر کے پھر سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔
اب ہر طرف پھر سے وہی آوازوں کا تماشہ شروع ہو چکا تھا ۔۔
خون میں لپٹے ہاتھ وہ بین آہ وزاری پھر سے شروع ہو چکی تھی ۔۔
اپنی طرف بڑھتے بونوں کو دیکھ کر وہ چیخی اس نے ادھر سے بھاگنا چاہا ۔۔مگر  روشنی واپس جا چکی تھی ۔۔
اس نے روشنی کو زور لگا کر پکارا مگر شاید وہ روٹھ گئی تھی ۔۔۔
وہ بونے اس کی طرف ہتھیار لیے بڑھ رہے تھے ۔۔
روشنی کو پکارتے پکارتے اس کی آواز رندھ گئی ۔۔
وہ بھاگتے ہوئے کمرے کے وسط تک پہنچ گئی۔۔۔
وہ سب اس کے قریب آتے جا رہے تھے وہ آوازیں کانوں کا پردہ پھاڑ رہی تھیں ۔۔
اس نے اپنی جانب سب کو آتے دیکھ کر بھاگنا چاہا ۔۔
مگر بھاگنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیا، ہر طرف وہی بونے کھڑے تھے جن کے قد بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔۔
سب کے ہاتھوں میں ہتھیار دیکھ کر اس کا دل کانپا ۔۔
اتنی بے درد موت تو اس نے کبھی مرنا نہیں چاہا تھا۔۔
اس نے آنکھیں کسی امید کے تحت بند کیں ۔۔۔
"تم کسی قابل نہیں ہو۔ "
"You are a looser "
"تم نے میری برسوں بنائی کمائی منٹوں میں اجاڑ دی۔ "..
"ساڈھی دھی تے اک معمولی جئی ڈاکڑ وی نہ بن سکی ،لوکاں دے نیانے ہورے کی کوج کر لیندے نے۔ "
"آپ جیسی نالائق سٹوڈنٹ کو کوئی حق نہیں ہے میڈیکل میں آنے کا" ۔۔۔
"جگہ جگہ ڈاکٹر رل رہے ہیں اور یہ پہلے سال میں ہی کامیاب نہیں ہو سکی ۔۔"
ماں باپ کا پیسہ میڈیکل کے نام پر اجاڑ کے آوارہ گردیاں  ہوتی ہیں "۔
چھی چھی اتنی کم ظرف اور نالائق اولاد اللہ کسی کو نہ دے۔"
وہ بونے اس پر وار کرنا شروع کر چکے تھے ۔۔۔
اس نے تکلیف سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔
جسم سے جگہ جگہ خون بہہ رہا تھا ۔۔۔
ایسا ہی کچھ خون اسکی آنکھوں سے بہا ۔۔۔۔
اس نے تڑپتے ہوئے لوگوں کی زبان سے نکلتے الفاظ سے خود کو بچانا چاہا ۔۔۔
مگر درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
کسی کو اس کی آنکھوں کی بجھتی قندیلیں نظر نہیں آئیں ۔۔
آوازوں کا شور سن کر اردگرد تماشائی اکٹھے ہونا شروع ہوئے ۔۔
سب کو دیکھتے انہوں نے بھی اپنے جنجر نکال کر ایسے نالائق انسان کا وجود زمین سے ختم کرنا چاہا ۔۔جو ان کے ملک اور ڈاکٹری کے نام پر دھبہ تھا ۔۔
زمیں پر گری وہ وار سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی ۔۔۔
اس نے مزاحمت ترک کر دی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے حسین لمحوں کی تصویریں آنے لگیں ۔۔
جب گڑیا کو انجکشن لگاتے دیکھ کر اسکی اماں نے کہا تھا ہماری نرگس تو ڈاکٹربنے گی ۔۔
گڑیا سے کھیلتی نرگس نے ماں کی آنکھوں میں چمکتی الوہی چمک کو اپنی آنکھوں میں اتارا تھا ۔۔
ماں کے الفاظ اس کے دل میں کہیں کھب سے گئے تھے ۔۔۔
جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی گڑیا کھلونے تو دور کی بات اس نے اپنی ہم عمر سکھیوں میں بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ۔۔۔چونکہ اس کے پاس اس سب کے لیے وقت نہیں تھا ۔۔
جب کبھی خاندان میں رونق میلہ لگا ہوتا ۔۔تو وہ سب سے الگ کمرے میں بیٹھی کتابوں کے ڈھیر میں خود کو گم کر لیتی ۔۔۔
اگر کہیں اس کا دل مچلنے لگتا تو بابا کے الفاظ ادھر ہی قدم روک دیتے ۔۔۔
"میری نرگس ڈاکڑ بن کے اپنے بابا حیات کا نام انکی حیات میں روشن کرے گی ۔"
ماں بابا کے الفاظ اسکی کل حیات تھے ۔۔۔
اس نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ اسکی کیا خواہش تھی وہ کیا چاہتی تھی ۔۔۔
اس کے لیے ان کا کہا سب کچھ تھا ۔۔۔
نڈھال وجود کے ساتھ اس نے ان بونوں کو دیکھا ۔
اس میں ابا اور اماں بھی تھے ۔۔
جھکی آنکھوں کے ساتھ لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے ۔۔
اماں کی آنکھوں میں اس چمک کی بجائے آج آنسو تھے ۔۔جو وہ سب سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔
مگر اپنے پھول سے نہ چھپا پائیں ۔۔۔
وہ ساری ہمت اکھٹی کرتے کسی فیصلے کے تحت کھڑی ہوئی ۔۔۔
نہیں وہ اپنے ماں باپ کا جھکا سر نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
وہ انہیں ان خنجروں سے بچانا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ بیٹی تھی ازل سے قربانی دینے والی ۔۔۔
اس کے نزدیک یہ اہم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ۔۔۔
وہ بس بچانا چاہتی تھی انہیں۔۔۔۔
پھندہ بناتے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔
زندگی اسے اپنی طرف بلا رہی تھی ۔۔۔
ماں بابا کے ہمت بھرے الفاظ اسے روک رہے تھے ۔۔
مگر وہ کمزور تھی کہاں قتل ہوتا دیکھ سکتی تھی روز بروز انکا  ۔۔۔
کرسی ایک سائیڈ پر گری ۔۔۔
واٹس ایپ کی بیپ سے برآمد ہونے والی روشنی دیر کر چکی تھی ۔۔۔
اسکی آنکھوں سے روشنی رخصت ہو چکی تھی ۔۔۔
قاتل جیت گئے تھے ۔۔۔
ایک پھول اپنے بابا حیات کی حیات بچا چکا تھا مگر اپنی حیات دے کر ۔۔۔
تماشائی خنجر پھینک کر غم کا اظہار کر رہے تھے ۔۔۔
جنکے نزدیک کل تک وہ نالائق تھی آج وہی مطلبی اور کم ظرف تھی ۔۔۔
جو ماں باپ کے بڑھاپے پر سوال اٹھا گئی تھی ۔۔۔
ہر طرف ایک کہرام مچ چکا تھا ۔۔۔
مگر نرگس حیات کی حیات کا گل ہوتا چراغ لاکھوں سوال چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
قاتل کون  تھا؟
وہ جس نے ماں باپ کے خواب پورے کرنے کی حد تک کوشش کی ؟
ہمارا معاشرہ ؟
ہمارا تعلیمی نظام؟
یا پھر ہمارے اپنے؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قتل تھا ۔۔۔
کوئی مجھے بتائے کہ اگر یہ قتل بھی ہوتا تو ان کو کس نے حق دیا ہے کسی کے ارمانوں، خوابوں اور خوشیوں کے قتل کا ۔۔
پھول پتی پتی کر کے توڑنا چاہو تو بلاآخر مرجھا کر خودہی ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔
وہ بھی ایسا ہی ایک پھول تھا ،اس جیسے نجانے کتنے پھول گزر گئے اور نجانے کتنے ہیں جو پتی پتی ٹوٹ رہے ہیں ۔۔۔
خدارا خود کو قاتل بنانے سے روکیں ۔۔۔
اپنے خنجروں کو پھینک کر مرہم خریدیں ۔۔۔
روشنیوں کو گم ہونے سے بچائیں ۔۔۔
اپنوں کی زندگیوں میں قاتل یا قتل جیسے سوالیہ نشان نہ چھوڑیں ۔۔۔۔
اب ان کو ہے بخشش کی ہے تمنا جنہوں نے کبھی
 چوک میں لا کر صلیبوں سے پیغمبر باندھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"مریم شیخ"