HERE YOU CAN SEARCH FOR THE NOVELS LINKS

Google play app

Get it on Google Play
Showing posts with label Maryam Sheikh. Show all posts
Showing posts with label Maryam Sheikh. Show all posts

Tuesday, 3 April 2018

Qaatal Article by Maryam Sheikh

Qaatal Article by Maryam Sheikh

"قاتل"از "مریم شیخ"

سارا کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا تھا ۔۔۔
کھڑی سے آنے والی باریک سی روشنی کی لہر کمرے میں موجود شخص کا ہیولاواضح کرنے کے لیے نا مکمل تھی ۔۔۔
روشنی نے زور لگا کر اس ہیولے تک پہنچنے کی کوشش کی ۔۔
جیسے ہی روشنی کی آنکھیں اس وجود کو دیکھنے کے قابل ہوئیں اس کے قدم ادھر ہی جم گئے ۔۔
روشنی نے دو بار سہ بار آنکھیں جھپک کر اس وجود کی طرف دیکھا ۔۔
مگر اس وجود کی آنکھوں میں اسے کوئی روشنی دکھائی نہ دی ۔۔
گھپ اندھیرا بالکل ویسے ہی جیسے کچھ دیر پہلے اس کے لیے تھا ۔۔
وہ وجود روشنی کو اچانک اپنے پاس دیکھ کر کانپ گیا ۔۔
روشنی نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا مگر اس نے بے دردی سے اسے پیچھے کر کے پھر سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔
اب ہر طرف پھر سے وہی آوازوں کا تماشہ شروع ہو چکا تھا ۔۔
خون میں لپٹے ہاتھ وہ بین آہ وزاری پھر سے شروع ہو چکی تھی ۔۔
اپنی طرف بڑھتے بونوں کو دیکھ کر وہ چیخی اس نے ادھر سے بھاگنا چاہا ۔۔مگر  روشنی واپس جا چکی تھی ۔۔
اس نے روشنی کو زور لگا کر پکارا مگر شاید وہ روٹھ گئی تھی ۔۔۔
وہ بونے اس کی طرف ہتھیار لیے بڑھ رہے تھے ۔۔
روشنی کو پکارتے پکارتے اس کی آواز رندھ گئی ۔۔
وہ بھاگتے ہوئے کمرے کے وسط تک پہنچ گئی۔۔۔
وہ سب اس کے قریب آتے جا رہے تھے وہ آوازیں کانوں کا پردہ پھاڑ رہی تھیں ۔۔
اس نے اپنی جانب سب کو آتے دیکھ کر بھاگنا چاہا ۔۔
مگر بھاگنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیا، ہر طرف وہی بونے کھڑے تھے جن کے قد بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔۔
سب کے ہاتھوں میں ہتھیار دیکھ کر اس کا دل کانپا ۔۔
اتنی بے درد موت تو اس نے کبھی مرنا نہیں چاہا تھا۔۔
اس نے آنکھیں کسی امید کے تحت بند کیں ۔۔۔
"تم کسی قابل نہیں ہو۔ "
"You are a looser "
"تم نے میری برسوں بنائی کمائی منٹوں میں اجاڑ دی۔ "..
"ساڈھی دھی تے اک معمولی جئی ڈاکڑ وی نہ بن سکی ،لوکاں دے نیانے ہورے کی کوج کر لیندے نے۔ "
"آپ جیسی نالائق سٹوڈنٹ کو کوئی حق نہیں ہے میڈیکل میں آنے کا" ۔۔۔
"جگہ جگہ ڈاکٹر رل رہے ہیں اور یہ پہلے سال میں ہی کامیاب نہیں ہو سکی ۔۔"
ماں باپ کا پیسہ میڈیکل کے نام پر اجاڑ کے آوارہ گردیاں  ہوتی ہیں "۔
چھی چھی اتنی کم ظرف اور نالائق اولاد اللہ کسی کو نہ دے۔"
وہ بونے اس پر وار کرنا شروع کر چکے تھے ۔۔۔
اس نے تکلیف سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔
جسم سے جگہ جگہ خون بہہ رہا تھا ۔۔۔
ایسا ہی کچھ خون اسکی آنکھوں سے بہا ۔۔۔۔
اس نے تڑپتے ہوئے لوگوں کی زبان سے نکلتے الفاظ سے خود کو بچانا چاہا ۔۔۔
مگر درد تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔
کسی کو اس کی آنکھوں کی بجھتی قندیلیں نظر نہیں آئیں ۔۔
آوازوں کا شور سن کر اردگرد تماشائی اکٹھے ہونا شروع ہوئے ۔۔
سب کو دیکھتے انہوں نے بھی اپنے جنجر نکال کر ایسے نالائق انسان کا وجود زمین سے ختم کرنا چاہا ۔۔جو ان کے ملک اور ڈاکٹری کے نام پر دھبہ تھا ۔۔
زمیں پر گری وہ وار سہتے سہتے نڈھال ہو چکی تھی ۔۔۔
اس نے مزاحمت ترک کر دی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے حسین لمحوں کی تصویریں آنے لگیں ۔۔
جب گڑیا کو انجکشن لگاتے دیکھ کر اسکی اماں نے کہا تھا ہماری نرگس تو ڈاکٹربنے گی ۔۔
گڑیا سے کھیلتی نرگس نے ماں کی آنکھوں میں چمکتی الوہی چمک کو اپنی آنکھوں میں اتارا تھا ۔۔
ماں کے الفاظ اس کے دل میں کہیں کھب سے گئے تھے ۔۔۔
جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی گڑیا کھلونے تو دور کی بات اس نے اپنی ہم عمر سکھیوں میں بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ۔۔۔چونکہ اس کے پاس اس سب کے لیے وقت نہیں تھا ۔۔
جب کبھی خاندان میں رونق میلہ لگا ہوتا ۔۔تو وہ سب سے الگ کمرے میں بیٹھی کتابوں کے ڈھیر میں خود کو گم کر لیتی ۔۔۔
اگر کہیں اس کا دل مچلنے لگتا تو بابا کے الفاظ ادھر ہی قدم روک دیتے ۔۔۔
"میری نرگس ڈاکڑ بن کے اپنے بابا حیات کا نام انکی حیات میں روشن کرے گی ۔"
ماں بابا کے الفاظ اسکی کل حیات تھے ۔۔۔
اس نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ اسکی کیا خواہش تھی وہ کیا چاہتی تھی ۔۔۔
اس کے لیے ان کا کہا سب کچھ تھا ۔۔۔
نڈھال وجود کے ساتھ اس نے ان بونوں کو دیکھا ۔
اس میں ابا اور اماں بھی تھے ۔۔
جھکی آنکھوں کے ساتھ لوگوں کے سوالوں کے جواب دیتے ۔۔
اماں کی آنکھوں میں اس چمک کی بجائے آج آنسو تھے ۔۔جو وہ سب سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔
مگر اپنے پھول سے نہ چھپا پائیں ۔۔۔
وہ ساری ہمت اکھٹی کرتے کسی فیصلے کے تحت کھڑی ہوئی ۔۔۔
نہیں وہ اپنے ماں باپ کا جھکا سر نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
وہ انہیں ان خنجروں سے بچانا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ بیٹی تھی ازل سے قربانی دینے والی ۔۔۔
اس کے نزدیک یہ اہم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ۔۔۔
وہ بس بچانا چاہتی تھی انہیں۔۔۔۔
پھندہ بناتے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔
زندگی اسے اپنی طرف بلا رہی تھی ۔۔۔
ماں بابا کے ہمت بھرے الفاظ اسے روک رہے تھے ۔۔
مگر وہ کمزور تھی کہاں قتل ہوتا دیکھ سکتی تھی روز بروز انکا  ۔۔۔
کرسی ایک سائیڈ پر گری ۔۔۔
واٹس ایپ کی بیپ سے برآمد ہونے والی روشنی دیر کر چکی تھی ۔۔۔
اسکی آنکھوں سے روشنی رخصت ہو چکی تھی ۔۔۔
قاتل جیت گئے تھے ۔۔۔
ایک پھول اپنے بابا حیات کی حیات بچا چکا تھا مگر اپنی حیات دے کر ۔۔۔
تماشائی خنجر پھینک کر غم کا اظہار کر رہے تھے ۔۔۔
جنکے نزدیک کل تک وہ نالائق تھی آج وہی مطلبی اور کم ظرف تھی ۔۔۔
جو ماں باپ کے بڑھاپے پر سوال اٹھا گئی تھی ۔۔۔
ہر طرف ایک کہرام مچ چکا تھا ۔۔۔
مگر نرگس حیات کی حیات کا گل ہوتا چراغ لاکھوں سوال چھوڑ گیا تھا ۔۔۔
قاتل کون  تھا؟
وہ جس نے ماں باپ کے خواب پورے کرنے کی حد تک کوشش کی ؟
ہمارا معاشرہ ؟
ہمارا تعلیمی نظام؟
یا پھر ہمارے اپنے؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ قتل تھا ۔۔۔
کوئی مجھے بتائے کہ اگر یہ قتل بھی ہوتا تو ان کو کس نے حق دیا ہے کسی کے ارمانوں، خوابوں اور خوشیوں کے قتل کا ۔۔
پھول پتی پتی کر کے توڑنا چاہو تو بلاآخر مرجھا کر خودہی ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔
وہ بھی ایسا ہی ایک پھول تھا ،اس جیسے نجانے کتنے پھول گزر گئے اور نجانے کتنے ہیں جو پتی پتی ٹوٹ رہے ہیں ۔۔۔
خدارا خود کو قاتل بنانے سے روکیں ۔۔۔
اپنے خنجروں کو پھینک کر مرہم خریدیں ۔۔۔
روشنیوں کو گم ہونے سے بچائیں ۔۔۔
اپنوں کی زندگیوں میں قاتل یا قتل جیسے سوالیہ نشان نہ چھوڑیں ۔۔۔۔
اب ان کو ہے بخشش کی ہے تمنا جنہوں نے کبھی
 چوک میں لا کر صلیبوں سے پیغمبر باندھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
"مریم شیخ"

Thursday, 29 March 2018

Aitsaab Article by Maryam Sheikh

Aitsaab Article by Maryam Sheikh

"احتساباز "مریم شیخ"

اندھیری رات میں وہ تنہا بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی ۔
کچھ دن پہلے ہی کی تو بات تھی وہ بھی ایسے ہی چاند کو تکتا تھا ۔پھر سپیکر سے اسکی آواز ابھرتی تھی کہ
"مجھے تو چاند میں ایسا کچھ خاص نہیں لگتا سوائے اس کے کہ وہ بھی تمہاری طرح مجھ سے بہت دور ہے ۔۔۔"
میں اسکی آواز میں چھپی بے بسی سن کر کھلکھلا کر ہنس دیتی ۔۔۔
"اتنی محبت کرتے ہو مجھ سے ۔۔؟"میں نا جانے کس خدشے کے تحت ہر بار یہی سوال دہراتی ۔۔۔
"تم مجھ سے زیادہ جانتی ہو ۔۔۔"اسکا بھی ایک ہی جواب ہوتا ۔
کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں اسے اس سے زیادہ جانتی ہوں ۔
آج جب یونہی بیٹھے کہیں سے اچانک اسکی شادی کی خبر ملی تھی تو مجھے ہر طرف اکسیجن کم ہوتی محسوس ہوئی ۔مجھے لگا میں مر جاؤں گی ۔اور میں واقعی مر ہی تو گئی ۔
میری آنکھوں کے آگے اسکے ساتھ گزارے لمحے فلم کی طرح چلنے لگے ۔
پہلی بار جب میں نے اسے اپنی طرف تکتے دیکھا تو دل نے عجیب سا محسوس کیا ۔اسکی نظر روز مرہ اپنی طرح اٹھنے والے مردوں کی نظر سے علیحدہ تھی ۔
اسکی وہ کالی بھوری آنکھیں، مجھ سے نظریں ملنے پر نظر پھیر لینا ۔میری چھوٹی چھوٹی بات کی پروا کرنا ۔میری چھوٹی سی چوٹ پر بے چین ہو جانا ۔۔
مجھے سب محبت ہی تو لگتا تھا ۔۔
نہ اس نے کبھی اظہار کیا تھا نہ میں  نے۔۔۔
مگر میرے نزدیک یہ سب اسکا اظہار ہی تو تھا ۔
میں بغیر کچھ کہے سنے خوابوں کے جزیرے تعمیر کرتی گئی ۔
آج جب میں نے اس سے اسکی شادی کے بابت پوچھا تو پہلی بار میری آنکھوں میں آنکھیں ملا کر اس نے جواب دیا ۔
اس کے اس طرح دیکھنے سے ہی تو مجھے جواب مل گیا ۔۔
میں خاموشی سے اپنی محبت کا ماتم کرتی گھر کو چل دی۔۔۔
سوچتی ہوں تو غلطی میری ہی تھی اس نے کب کہا تھا کہ مجھ سے محبت کرتا ہے، اس نے تو ہمیشہ تم زیادہ جانتی ہو کہہ کر راستہ کھلا رکھا تھا ۔یہ میں ہی تھی جو محبت کی اندھی پٹی آنکھوں پر لگائے اسکی نظروں کو دوسرے مرد سے مختلف سمجھتی تھی ۔وہ مرد تھا آزاد پرندہ، جیسے ہی اسے مجھ سے اچھی ملی وہ خاموشی سے اسکی طرف چل دیا ۔
اور میں آج بھی ادھر ہی کھڑی ہوں، پہلے اسکی محبت کے حصار میں اور آج بھی نہ جانے اپنی غلطی پر، یا اس کے چھوڑ جانے پر ۔۔
اپنا میں جب بھی احتساب کرتی ہوں تو ہر طرف خسارہ ہی نکلتا ہے، آج ہر لڑکی میری طرح اس خسارے سے دوچار ہے ۔
عورت کو وہی مرد اچھا لگتا ہے جسے وہ خود چاہتی ہے ۔ورنہ اسکی طرف اٹھتی نظریں اور التفات ہر مرد کے ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ یہ عورت ہے جو خود کو دھوکہ دے کر ساری عمر جوگ لے بیٹھتی ہے ۔
****************


از "مریم شیخ"

Sunday, 11 March 2018

Judai Article by Maryam Sheikh

Judai Article by Maryam Sheikh

"جدائی" از مریم شیخ"
جیسے ہی شام کے سائے گہرے ہوتے ہیں وہ وجود مجھے اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے ۔میری ساری سوچیں ایک ہی نقطے پر جم جاتی ہیں ۔میرا سینہ انسانی وجود کے بوجھ سے آزاد ہونے پر آہ وزاری کرتا ہے ۔دھڑکنیں رک رک کر چلتی ہیں ۔ان ہونٹوں سے نکلنے والی آواز مجھے اپنی جانب بلاتی ہے ۔وہ بازو مجھے خود میں سمونے سے قاصر ہو جاتے ہیں ۔اس وجود  میں پھیلی تکلیف مجھے اپنے وجود میں محسوس ہوتی ہے ۔ان آنکھوں کی ویرانی قطرہ قطرہ میرے وجود میں اترتی چلی جاتی ہے۔  جدائی کا ناگ خاموشی سے مجھے ڈستا جا رہا ہے
میں اس سب سے بھاگنا چاہتی ہوں ۔دماغ سے بھاگوں تو دل پر بھی انہی کا بسیرا ہے ۔میں ہر طرف سے بے بس ہوں ۔میں اس تکلیف کو بھول کر حسین لمحوں کی تسکین محسوس کرنا چاہتی ہوں۔مگر میری ساری سوچیں نا جانے کدھر چلی جاتی ہیں ۔وہ حسین لمحات نا جانے کس آسیب کے سحر میں کھو گئے ہیں، بھولے سے بھی یاد نہیں آتے ۔
آنکھوں میں ایک ہی موسم ٹہرا گیا ہے۔
صرف جدائی کا موسم ۔
میں کیا کروں اس جدائی سے بھی تو جان نہیں چھڑوائی نا جا سکتی ۔
وہی لمحات تو یادگار بچےہیں میرے پاس اس کے ۔جب وہ میرے قریب تر تھے ۔کیا جدائی بھی اتنی قربت سے بھرپور ہوتی ہے؟ یہ کیسی جدائی ہے جو اپنے غم سے نجات کے پیچھے اپنے محب کو عمر بھر کا انتظار اور تکلف دے جائے ۔مجھے اس لمحے سے عشق ہے جب وہ وجود میرے سینے پر سر رکھے سو رہا تھا مگر کمبخت اس جدائی کو یہ خوشیوں سے نجانے کا بیر ہے جو لمحوں میں ہی اس میٹھی نیند کو ہمیشہ کی نیند دے دی ۔نا جانے ازل سے عشق کی کسی سے کیوں نہیں بنی ۔کبھی کوئی وقت نکال کے اس تنہائی سے پوچھے اسے کیا مسئلہ ہے ملن سے؟ کبھی کوئی اسکے دکھ بھی تو سنے نا ۔ پتا ہے کیا میری باتیں سن کر جدائی دھیمے سے میرے کان میں کیا کہا؟ اسے بھی کسی سے عشق تھا ۔۔ بالکل ایسا ہی جو اس کی کل کائنات تھا بلکل اسی طرح وہ بھی بے مراد ٹہری۔
اس دن سے اس نے ٹھان لیا ہے کبھی کسی کو عشق نہیں کرنے دے گی ۔ پتا ہے کیوں جب جب کوئی عشق میں روتا ہے یہ جدائی روتی ہے وہ خود کو ہی کھانا شروع کر دیتی ہے ۔عشق سے اسکی لڑائی بڑھتی چلی جاتی ہے اور ایک دن وہ عشق سے لڑے بغیر خاموشی سے اس کے وجود پر سایہ کر دیتی ہے ۔بنا کچھ کہے بولے ۔کہ عشق کا مقدر جو جدائی ٹہرا
۔اور جدائی کا کام ہی بچنا ۔ سوچتی ہوں تو ٹھیک کہتی ہے جدائی بھی ۔مگر پھر یہی سوچ قابض ہو جاتی ہے کہ اپنے دکھ کا بدلہ کسی اور سے لینا کہاں کا انصاف ہے ۔ضروری ہے کہ اگر یہ نامراد ٹہری ہے تو ہر کوئی خالی ہاتھ ہی رہے ۔ جدائی کو کیوں لگتا ہے کہ وہ درد سے بچا رہی ہے ۔ لیکن وہ بھول جاتی ہے وہ تو تاعمر درد کی راہ دکھا رہی ہے
۔ ہے کوئی شیر دل تو آئے اور لڑے اور روک دے اس جدائی کو ۔ میں تو بہت مضبوط تھی ۔سکھی تھی جدائی میری ۔مگر ادھر تو اس نے میرے سے بھی یاری نہیں نبھائی ۔کوئی ہے؟ تو آ جائے روک لے اسے ۔بچا لے اپنی محبتوں کو . خاموشی ہی ہے ہر طرف شاید کوئی بھی اتنا مضبوط نہیں ۔ پتا ہے آسمان پر پورے غرور سے چمکتا چاند کیا کہہ رہ ہے؟ کہتا ہے اس سے لڑنا چھوڑ دو ۔ جدائی سے لڑو گے تو یہ اور جدا کر گی ۔بلکل اسی طرح جس طرح اس سے تارے چھپا لیتی ہے ۔تو کبھی سورج کو اسکی جگی دے دیتی ہے ۔یہ کسی کی نہیں ہوتی ۔ میں نے سن لی ہے اسکی بات ۔ چلو مان لیا جدائی جیت گئی ۔ مگر اب یہ پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی ۔ چھین لیا اب جائے رہے خوش ہو کر اس نے ایک انسان کو مرنے سے بچا لیا ۔ مگر اسکا دل کیوں نہیں بھرتا ۔ یہ کیوں اب یادوں میں بھی حاوی ہونا چاہتی ہے ۔کیوں صرف دکھی لمحات کو یاد رکھنے پر اکساتی ہے ۔اسے سمجھائے کبھی کوئی ۔اسکا تو نام جدائی ہے یہی اسکا مقدر ٹہرا ۔ مگر میرا نام تو عشق ہے ۔یہ میری گھٹن تو بڑھا سکتی ہے ۔مگر میری دھڑکن نہیں روک سکتی ۔عشق میں تو مر کر بھی جینے کی امنگ ہوتی ہے ۔یہ کس بھول میں ہے ۔اسے بتاؤ یہ جیت کر بھی ہار گئ ہے
مگر ہاں اگر غم سے اسکی علیک سلیک ہے
تو انہیں کہو اسے سمجھائیں
یہ دوستی نبھانے دے ۔
غم قبول ہیں
مگر ہائے یہ جدائی نہ آئے



 ازقلم مریم شیخ

Tuesday, 29 August 2017

Bikhray chahat k rung Episode 3 by Maryam Sheikh Online Reading

Bikhray chahat k rung by Maryam Sheikh


is famous social, romantic Urdu novel.

It was published on group of Prime Urdu Novels online.

Maryam Sheikh is new writer and its her first novel which


is being written for us. Bikhray chahat k rung


is available to download and online reading. Click the

links below to download free online books,or free online

reading this novel. For better result click on the image.

Download Link

Free online reading Bikhray chahat k rung Episode 3 by Maryam Sheikh




CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING

Wednesday, 23 August 2017

Bikhray chahat k rung Episode 2 by Maryam Sheikh Online Reading

Bikhray chahat k rung by Maryam Sheikh


is famous social, romantic Urdu novel.

It was published on group of Prime Urdu Novels online.

Maryam Sheikh is new writer and its her first novel which


is being written for us. Bikhray chahat k rung


is available to download and online reading. Click the

links below to download free online books,or free online

reading this novel. For better result click on the image.

Download Link

Free online reading Bikhray chahat k rung Episode 2 by Maryam Sheikh




CLICK ON READ MORE TO CONTINUE READING